| Statistics |
Total online: 1 Guests: 1 Users: 0 |
|
Main » 2010 » December » 15 » ستم سے بات کرو کربلا کے لہجے میں!
10:06 PM ستم سے بات کرو کربلا کے لہجے میں! |
ستم سے بات کرو کربلا کے لہجے میں! سید الشھداء حضرت امام حسین ؑ کی عظیم قربانی تمام بشریت کیلئے تھی نہ کہ کسی خاص فرقے اور مذہب کے لوگوں کیلئے بلکہ امام عالی مقام نے اپنے اہل و عیا ل کیساتھ یزید جیسے فاسق و فاجر و ظالم حکمران کے سامنے قیام کرکے رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے ظلم کیخلاف قیام کا ایک انمول درس دیا اور آج بھی دنیا بھر کے حریت پسند و محکوم عوام کیلئے حسینی کردار نمونہ عمل ہے ۔ امام ؑ عالی مقام نے انسانیت کیلئے دین اسلام کی صداقتوں کو بھی اجاگر اور بلند کیا اور حقیقی اسلام ناب محمدی ؐ کے احیاء کیلئے یہ عظیم قربانی دی لہٰذہ آج ضرورت اس امر کی ہے ہم بھی سیر ت حضرت ابا عبداللہ الحسین ؑ پر چلتے ہوئے اسلام حقیقی کے احیاء اور معاشرے میں دینی اقدار کے تحفظ کیلئے کمر بستہ رہیں۔ روز عاشور حضرت اباعبدللہ الحسین ؑ نے جو صدائے استغاثہ ’’ھلن من ناصر ینصرنا ‘‘ بلند کی تھی ، کربلائے عصر میں اس کی صدائیں گونج رہی ہیں ۔ آج پھر ہر طرف یزیدی کردار ابھر کر سامنے آچکے ہیں اور دین محمدی ؐ پر ضرب لگانے کیلئے سر گرم عمل ہیں ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مظلوم مسلمینِ جہاں پر ہونے والے مظالم کی داستانیں اس کی غمازی کرتے ہیں بالخصوص ارض مقدس پاکستان جہاں عالمی استعماری طاقتوں کی ایماء پر انکے مقامی گماشتے اور ایجنٹ القاعدہ ، طالبان اور سپاہ یزید کی شکل میں مظلوم و نہتے مسلمانوں کی خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں اوردین کے نام پر دینداروں کو اپنی تعصب اور تنگ نظری کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ مکتب تشیع جس کا قیام پاکستان کیلئے انمول کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں آج اس ملک میں سب سے زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ مساجد ، امام بارگاہوں اور عزاداری سید الشھداء کے اجتماعات پر خود کش حملوں ، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات میں ابتک ہزاروں بیگناہ ، معصوم اور محب وطن شیعہ عوام کو شہید کیا جا چکا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ کربلائے پارہ چنار، ہنگو، گلگت ، کوئٹہ ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کراچی اور دیگر کئی شہروں اور علاقوں میں ظلم و ستم اور شیعہ نسل کشی جاری ہے ۔ گلگت بلتستان میں فرقہ پرست اور کالعدم شدت پسند تنظیموں کے نیٹ ورک دن بہ دن مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں جو کہ اس حساس خطے اور ملکی استحکام کیلئے مستقبل قریب میں ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ستم بالائے ستم درجنوں بیگناہ و معصوم شیعہ نوجوان ناکردہ گناہوں اور جھوٹے مقدمات کے تحت گزشتہ کئی سالوں سے قید و بند کی صعبوتیں برداشت کر رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے شہید قائد گلگت بلتستان علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ اور دیگر سینکڑوں شہدائے ملت جعفریہ کے قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو قرار واقعی سزاء دینے کے بجائے عدل و انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے گزشتہ دنوں آٹھ بیگناہ و معصوم شیعہ نوجوانوں کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث قرار دیکر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے جو کہ عوام کا عدلیہ سے اعتماد ختم کروانے کی ایک سوچی سمجھی و گھناونی سازش ہے۔ ہم وفاقی حکومت بالخصوص گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سے یہ پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقے میں پائیدار اور مستقل امن و امان کے قیام کیلئے مندرجہ ذیل مطالبات پر عمل درآمد کرایا جائے: ۱۔ حکومتی سطح پر تمام مکاتب فکر کیساتھ یکساں سلو ک روا رکھا جائے ، سرکاری اداروں میں تقرریاں میرٹ اور آبادی کے تناسب سے کی جائیں اور گزشتہ ادوار میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر کی جانے والی تقرریوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کو رواج دیا جائے۔ ۲۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں رائج متنازعہ و متعصابہ نصاب تعلیم پر پابندی عائد کرکے ۲۴اپریل ۲۰۰۵ء کے معاہدہ اسلام آباد پر عمل درآمد کراتے ہوئے سب کیلئے قابل قبول نصاب تعلیم رائج کیا جائے۔ ۳۔ داعی اتحا د بین المسلمین ، سفیر امن ، امین وحدت شہید علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ اور دیگر تمام شہدائے ملت جعفریہ کے قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزاء دی جائے۔ ۴۔اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کرکے غیر مقامی افراد کو فوراً علاقہ بدر کیا جائے اور گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر صوبوں کے عوام کے مساوی بنیادی شہری ، آئینی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی اور تعلیمی حقوق دئیے جائیں۔ ۵۔ گلگت بلتستان کے طول و عرض میں پھیلے شدت پسندوں ، اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کریک ڈاون کرکے انہیں انکے سرپرستوں سمیت گرفتار کرکے قرار واقعی سزاء دیاجائے۔
|
|
Category: Local News |
Views: 243 |
Added by: stmkazmi
| Rating: 0.0/0 |
|
|
|